کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نوره کوغسل کے وقت جسم پر لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 1194
١١٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن: قال كان رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وعمر لا يطلون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جسم پر نورہ نہیں لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1194
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل فيه ضعف؛ رواية زائدة عن هشام يضعفونها.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1194، ترقيم محمد عوامة 1193)
حدیث نمبر: 1195
١١٩٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن عبد اللَّه بن شداد قال: ﴿فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا﴾ [النمل: ٤٤] فإذا امرأة شعراء قال: فقال سليمان: ما يذهب هذا؟ قالوا: النورة، قال: فجعلت النورة يومئذ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ بلقیس کی پنڈلی پر بہت سے بال تھے۔ حضرت سلیمان نے پوچھا کہ یہ بال کیسے ختم ہوں گے ؟ لوگوں نے بتایا کہ نورہ کے ذریعہ، اس کے بعد سے نورہ بالوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال ہونے لگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1195
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1195، ترقيم محمد عوامة 1194)
حدیث نمبر: 1196
١١٩٦ - حدثنا (أزهر) (١) عن ابن عون قال: كان الحسن رجلًا أزبا (٢) وكان لا يطلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن حمزہ فرماتے ہیں کہ حسن کے جسم پر بہت بال تھے وہ نورہ نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1196
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1196، ترقيم محمد عوامة 1195)
حدیث نمبر: 1197
١١٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن عمر بن حمزة: أن سالمًا أطلى مرة، وتسرول أخرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت سالم کبھی نورہ لگاتے تھے اور کبھی نہیں لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1197
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1197، ترقيم محمد عوامة 1196)
حدیث نمبر: 1198
١١٩٨ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن جابر بن زيد (١): أطلى في العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید نے نورہ استعمال کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1198
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1198، ترقيم محمد عوامة 1197)
حدیث نمبر: 1199
١١٩٩ - حدثنا هشيم وشريك عن ليث أبي (المشرفي) (١) عن أبي (معشر) (٢) عن إبراهيم قال: كان النبي ﷺ إذا أطلى؛ ولي عانته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نورہ کو بالوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال فرماتے تو زیر ناف حصے پر بھی لگاتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1199
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ ليث مجهول، أخرجه عبد الرزاق (١١٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1199، ترقيم محمد عوامة 1198)
حدیث نمبر: 1200
١٢٠٠ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس الأسدي عن علي بن أبي عائشة قال: كان عمر رجلًا أهلب (١)، (فكان) (٢) يحلق عنه الشعر، وذكرت له النورة فقال: النورة من النعيم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے جسم پر بہت سے بال تھے۔ وہ اپنے جسم کے بالوں کو مونڈا کرتے تھے۔ ان کے سامنے کسی نے نورہ کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نورہ تو خوش پروری کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1200
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1200، ترقيم محمد عوامة 1199)