کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: شرم گاہ کا ظاہر ہونا ، ناپسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 1134
١١٣٤ - حدثنا ابن المبارك عن يونس عن الزهري قال: أخبرني عروة عن أبيه أن أبا بكر الصديق قال وهو يخطب الناس: يا معشر المسلمين استحيوا من اللَّه؛ فوالذي نفسي بيده إني لأظل حين أذهب إلى الغائط في الفضاء مغطي رأسي استحياء من ربي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر نے خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت اللہ سے شرم کرو۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں جب سر ڈھانپ کر کسی جگہ رفع حاجت کے لیے جاتا ہوں تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ سے شرم محسوس کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1134
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1134، ترقيم محمد عوامة 1133)
حدیث نمبر: 1135
١١٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس عن أبي موسى قال: إني لأغتسل في البيت المظلم، فأحني ظهري إذا أخذت ثوبي حياء من ربي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں تاریک کمرے میں غسل کرتا ہوں پھر بھی کپڑے اتار کر میں اللہ تعالیٰ سے شرم کی بنا پر کمر کو جھکا لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1135
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1135، ترقيم محمد عوامة 1134)
حدیث نمبر: 1136
١١٣٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (أبي جعفر الخطمي) (١) عن عمارة بن خزيمة والحارث بن فضيل عن عبد الرحمن بن أبي (قراد) (٢) قال: حججت مع النبي ﷺ قال: فذهب لحاجته، فأبعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابو قراد فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج فرمایا، آپ رفع حاجت کے لیے بہت دور تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٥٦٦٠) وابن ماجه (٣٣٤) والنسائي (١٦) وابن خزيمة (٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1136، ترقيم محمد عوامة 1135)
حدیث نمبر: 1137
١١٣٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن موسى بن عبد اللَّه بن يزيد عن مولاة لعائشة عن عائشة أنها قالت: ما نظرت، أو ما رأيت فرج رسول اللَّه ﷺ قط (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرم گاہ کو نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1137
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1137، ترقيم محمد عوامة 1136)
حدیث نمبر: 1138
١١٣٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه (بن عامر) (١) قال: رآني أبي أنا ورجل نغتسل يصب علي وأصب عليه، (قال) (٢): فصاح بنا وقال: أيرى الرجل عورة الرجل؟! واللَّه إني لأراكم الخلف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے مجھے اس حال میں دیکھا کہ میں اور ایک آدمی دونوں غسل کر رہے تھے وہ مجھ پر پانی ڈال رہا تھا اور میں اس پر پانی ڈال رہا تھا۔ انہوں نے مجھے زور سے آواز دی اور فرمایا ” کیا ایک مرد دوسرے کا ستر دیکھ سکتا ہے ؟ خدا کی قسم ! تم میرے اچھے جانشین نہیں ہو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1138
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1138، ترقيم محمد عوامة 1137)
حدیث نمبر: 1139
١١٣٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (أبي بكر) (١) (بن حفص) (٢) قال: قال ⦗٢٢٨⦘ عمر: لا يرى الرجل عورة الرجل، أو قال: لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے فرمایا کوئی مرد دوسرے کا ستر نہیں دیکھ سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1139
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1139، ترقيم محمد عوامة 1138)
حدیث نمبر: 1140
١١٤٠ - حدثنا وكيع عن هشام بن الغاز عن عبادة بن نسي عن قيس بن الحارث عن سلمان قال: لأن أموت، ثم أنشر، ثم أموت، ثم أنشر، ثم أموت، ثم أنشر، أحب إليَّ من أن أرى عورة الرجل أو يراها مني (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ میں مروں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مروں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مروں پھر زندہ کیا جاؤں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی آدمی کا ستر دیکھوں یا کوئی آدمی میرا ستر دیکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1140
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1140، ترقيم محمد عوامة 1139)
حدیث نمبر: 1141
١١٤١ - حدثنا وكيع عن مغيرة بن زياد عن عبادة بن نسي عن أبي موسى قال: لأن أموت، ثم أنشر، أحب إليَّ من أن ترى عورتي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں مروں اور پھر زندہ کیا جاؤں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ کوئی میرا ستر دیکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1141
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مغيرة صدوق، قال أبو حاتم: "عبادة عن أبي موسى مرسل".
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1141، ترقيم محمد عوامة 1140)
حدیث نمبر: 1142
١١٤٢ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن ابن طاوس: قال أمرني أبي إذا دخلت الخلاء أن أقنع رأسي، قلت: لم أمرك بذلك؟ (قال: لا أدري) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ میں بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت اپنا سر ڈھانپ لوں۔ راوی نے پوچھا کہ انہوں نے آپ کو یہ حکم کیوں دیا فرمایا میں نہیں جانتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1142
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1142، ترقيم محمد عوامة 1141)
حدیث نمبر: 1143
١١٤٣ - حدثنا زيد بن الحباب عن (الضحاك) (١) بن عثمان قال: أخبرني زيد بن أسلم عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل، ولا المرأة إلى عورة المرأة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مرد کسی مرد کا ستر نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کا ستر نہ دیکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1143
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٣٣٨) وأحمد (١١٦٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1143، ترقيم محمد عوامة 1142)
حدیث نمبر: 1144
١١٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي (الضحى) (١) عن مسروق عن المغيرة (٢) بن شعبة قال: كنت مع النبي ﷺ في سفر، فقال: "يا مغيرة خذ الإداوة"، ⦗٢٢٩⦘ قال: فأخذتها، ثم خرجت معه، فانطلق رسول اللَّه ﷺ حتى توارى عني، فقضى حاجته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے فرمایا کہ اے مغیرہ برتن پکڑو “ میں نے اسے اٹھایا اور آپ کے ساتھ چل پڑا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے اتنا آگے اور چلے گئے کہ دکھائی نہ دیتے تھے، پھر آپ نے رفع حاجت فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1144
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٦٣) ومسلم (٢٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1144، ترقيم محمد عوامة 1143)
حدیث نمبر: 1145
١١٤٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرني إسماعيل بن عبد الملك (عن أبي الزبير) (١) عن جابر قال: خرجت مع رسول اللَّه ﷺ في سفر، وكان رسول اللَّه ﷺ لا يأتي (البراز) (٢) حتى يتغيب فلا يرى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب آپ کو رفع حاجت کی ضرورت پیش آتی تو اتنا دور تشریف لے جاتے کہ دکھائی نہ دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1145
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال إسماعيل، أخرجه أبو داود (٢) وابن ماجه (٣٣٥) والحاكم ١/ ١٤٠، والدارمي ١/ ١٠، وعبد بن حميد (١٠٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1145، ترقيم محمد عوامة 1144)
حدیث نمبر: 1146
١١٤٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش قال: قال عبد اللَّه بن عمر: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أراد الحاجة برز حتى لا يرى أحدا، وكان لا يرفع ثوبه حتى يدنو من الأرض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب رفع حاجت کی ضرورت پیش آتی تو اتنا دور جاتے کہ کسی کو دکھائی نہ دیتے اور زمین کے انتہائی قریب ہو کر آپ کپڑا اوپر کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1146
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1146، ترقيم محمد عوامة 1145)
حدیث نمبر: 1147
١١٤٧ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن ابن سيرين قال: قال أبو موسى: ما أقمت صلبي في غسلي منذ أسلمت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوموسیٰ فرماتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد دوران غسل میں نے کبھی اپنی کمر کو سیدھا نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1147
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1147، ترقيم محمد عوامة 1146)