کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ پیشاب کرنے کے بعد پانی استعمال کرے یا تیمم کرے
١١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن مجاهد: (أن عمر) (١) كان إذا بال تيمم، قال: أتيمم حتى يحل لي التسبيح (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر پیشاب کرنے کے بعد تیمم کرتے اور فرماتے میں اس لیے تیمم کرتا ہوں تاکہ تسبیح میرے لیے حلال ہوجائے۔
١١٣٠ - حدثنا أزهر عن ابن عون عن نافع قال: كان ابن عمر إذا بال، فأراد أن يأكل؛ توضأ ولم يغسل رجليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب پیشاب کرتے اور پھر ان کا کچھ نوش فرمانے کا ارادہ ہوتا تو وضو کرتے لیکن پاؤں نہ دھوتے۔
١١٣١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن واصل قال: كنا نكون عند إبراهيم، فيذهب فيبول، ثم يجيء فيمس الماء ويقول: كانوا يستحبون أن يمسوا الماء إذا بالوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واصل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ابراہیم کے ساتھ تھے۔ وہ پیشاب کرنے گئے اور واپس آ کر پانی سے ہاتھ دھوئے۔ پھر فرمایا اسلاف اس بات کو پسند کرتے تھے کہ پیشاب کے بعد پانی سے ہاتھ دھوئے جائیں۔
١١٣٢ - حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس قال كلاهما: (رأيت) (١): ابن عمر وابن عباس إذا خرجا من الغائط تلقيا بتور، فيغسلان وجوههما وأيديهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا کہ بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد ان کے پاس پانی کا برتن لایا جاتا جس سے وہ اپنے چہروں اور ہاتھوں کو دھوتے تھے۔
١١٣٣ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: بلغني أن رسول اللَّه ﷺ لم يدخل الخلاء إلا توضأ، أو مس ماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد وضو فرماتے یا پانی سے ہاتھ دھویا کرتے تھے۔