کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: طہر کیا ہے؟ اور اس کی پہچان کیا ہے؟
حدیث نمبر: 1009
١٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن برد عن مكحول قال: لا تغتسل حتى ترى طهرا أبيض كالفضة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محکول فرماتے ہیں کہ عورت اس وقت تک حیض کا غسل نہ کرے جب تک پیالے کی طرح سفید طہر نہ دیکھ لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1009
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1009، ترقيم محمد عوامة 1009)
حدیث نمبر: 1010
١٠١٠ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء قال: قلت له الطهر ما هو؟ قال: الأبيض (الجفوف) (١) الذي ليس معه صفرة ولا ماء: الجفوف الأبيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ طہر کیا ہے ؟ فرمایا وہ انتہائی سفید حالت جس کے ساتھ زردی اور پانی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1010
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1010، ترقيم محمد عوامة 1010)
حدیث نمبر: 1011
١٠١١ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: أرسلت إلى (رائطة) (١) مولاة عمرة، فأخبرني الرسول أنها قالت: كانت عمرة تقول للنساء: إذا أحداكن أدخلت الكرسفة (٢) فخرجت متغيرة؛ فلا تصلين حتى لا ترى شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحی بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے رائطہ کی طرف ایک قاصد بھیجا اس نے آکر مجھے بتایا کہ عمرہ عورتوں سے کہا کرتی تھیں کہ جب تم میں سے کوئی روئی اپنی شرم گاہ میں داخل کرے اور اس کا رنگ بدلا ہوا پائے تو اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک اسے کوئی چیز دکھائی نہ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1011
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1011، ترقيم محمد عوامة 1011)
حدیث نمبر: 1012
١٠١٢ - حدثنا محمد بن بكر عن يونس بن يزيد الأيلي عن الزهري قال: سألته عما يتبع الحيضة من الصفرة والكدرة؟ قال: هو من الحيضة، وتمسك عن الصلاة حتى تنقي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یونس بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے حیض کے بعد کے بعد آنے والے زرد اور مٹیالے پانی کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگے کہ وہ حیض ہی ہے عورت اس کے صاف ہونے تک نماز نہ پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1012
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1012، ترقيم محمد عوامة 1012)
حدیث نمبر: 1013
١٠١٣ - حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر (قالت) (١): كنا في حجرها مع بنات ابنتها، فكانت إحدانا تطهر، ثم تصلي، ثم تنكس بالصفرة اليسيرة فتسألها فتقول: اعتزلن الصلاة ما رأيتن ذلك حتى لا ترين إلا البياض خالصًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ بنت المنذر کہتی ہیں کہ ہم حضرت اسماء بنت ابی بکر کی نواسیوں کے ساتھ ان کی تربیت میں تھیں۔ بعض اوقات ہم میں سے کوئی لڑکی پاک ہو کر نماز پڑھتی اور اسے تھوڑا سا زرد پانی محسوس ہوتا تو اس بارے میں ہم نے حضرت اسماء سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا ” تم اس وقت تک نماز چھوڑ دو جب تک خالص سفیدی نہ دیکھو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق بالتحديث كما عند الدارمي، أخرجه الدارمي ١/ ٢١٤ (٨٨٩)، والبيهقي ١/ ٣٣٦، وإسحاق كما في المطالب (٢٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1013، ترقيم محمد عوامة 1013)
حدیث نمبر: 1014
١٠١٤ - حدثنا معن بن عيسى عن مالك بن أنس عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن عمته عن ابنة زيد بن ثابت أنه بلغها أن النساء كن يدعون بالمصابيح في جوف الليل ينظرن إلى الطهر، فكانت تعيب عليهن وتقول: ما (كان) (١) النساء يصنعن هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت کی بیٹی کو یہ خبر پہنچی کہ عورتیں رات کے وقت میں طہر دیکھنے کے لیے چراغ منگواتی ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور فرمایا کہ انہیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1014
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1014، ترقيم محمد عوامة 1014)