کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات کا کہنا ہے پانی کے بدلے پانی ہے یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہوگا
حدیث نمبر: 962
٩٦٢ - حدثنا أبو بكر: قال حدثنا ابن عيينة عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن زيد (بن خالد) (١) الجهني: سأل خمسة من أصحاب النبي ﷺ كلهم يقول: "الماء من الماء"، منهم: علي بن أبي طالب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے پانچ صحابہ سے سوال کیا سب نے یہی کہا کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔ ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 962
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٩٦٨) والطحاوي ١/ ٥٣ وانظر: (٩٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 962، ترقيم محمد عوامة 962)
حدیث نمبر: 963
٩٦٣ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن رجل من أهل (الجدرة) (١) عن ابن عباس (قال) (٢) قال: الماء من الماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 963
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 963، ترقيم محمد عوامة 963)
حدیث نمبر: 964
٩٦٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: قال عبد اللَّه: الماء من الماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 964
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسدد كما في المطالب (١٨٩) وابن المنذر (٥٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 964، ترقيم محمد عوامة 964)
حدیث نمبر: 965
٩٦٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن سليم (بن عبد اللَّه) (١) عن ابن عباس (قال) (٢): قال: الماء من الماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 965
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وتقدم [٩٦٣].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 965، ترقيم محمد عوامة 965)
حدیث نمبر: 966
٩٦٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن ذكوان عن أبي سعيد: أن رسول اللَّه ﷺ مر على رجل من الأنصار، فأرسل إليه، فخرج ورأسه يقطر، فقال: "لعلنا أعجلناك؟ " فقال: نعم يا رسول اللَّه. قال: "إذا أعجلت أو (أقحطت) (١)؛ فعليك الوضوء، ولا غسل عليك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری کے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ پیغام بھیج کر انہیں بلوایا۔ وہ حاضر ہوئے تو اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شاید ہم نے آپ کو جلدی بلا لیا۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم جماع کرو اور انزال نہ ہو تو صرف وضو لازم ہے غسل لازم نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 966
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٨٠) ومسلم (٣٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 966، ترقيم محمد عوامة 966)
حدیث نمبر: 967
٩٦٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن (خرشة) (١) ابن حبيب عن علي أنه قال في الغسل من الجماع: إذا لم ينزل، (فلم يغتسل) (٢)؟ قيل: وإن هزها به؟ (قال: وإن هزها به) (٣) حتى يهتز قرطاها! (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس جماع کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انزال نہ ہو کہ غسل واجب ہوگا یا نہیں ؟ فرمایا غسل واجب نہیں۔ کسی نے پوچھا خواہ آدمی عورت پر حرکت طاری کرے پھر بھی نہیں ؟ فرمایا نہیں اگر اس کی بالیاں ہلا دے پھر بھی نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 967
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 967، ترقيم محمد عوامة 967)
حدیث نمبر: 968
٩٦٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور قال: سمعت هلالا يحدث عن المرقع عن أم ولد لسعد بن أبي وقاص: أن سعدًا كان يأتيها، فإذا لم ينزل؛ لم يغتسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابی وقاص کی ام ولد فرماتی ہیں کہ حضرت سعد میرے پاس آتے اگر انہیں انزال نہ ہوتا تو غسل نہ فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 968
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 968، ترقيم محمد عوامة 968)
حدیث نمبر: 969
٩٦٩ - حدثنا سويد (بن عمرو) (١) عن حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن أبي أيوب عن أبي بن كعب عن النبي ﷺ قال: "ليس في الإكسال إلا الطهور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب روایت کرتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ بغیر انزال کے جماع کرنے سے غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ صرف وضو واجب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 969
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٥٧) وأحمد ٥/ ١١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 969، ترقيم محمد عوامة 969)
حدیث نمبر: 970
٩٧٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن (شيبان عن يحيى) (١) عن (أبي سلمة) (٢) أن عطاء بن يسار أخبره أن زيد بن خالد الجهني أخبره أنه سأل عثمان بن عفان (قال) (٣): قلت: أرأيت إذا جامع الرجل المرأة (فلم) (٤) يمن؟ فقال عثمان (٥): يتوضأ (وضوءه) (٦) للصلاة، ويغسل ذكره، وقال عثمان: سمعت (من) (٧) رسول اللَّه ﷺ قال: وسألت عن ذلك عليا والزبير وطلحة وأبي بن كعب، فأمروه بذلك (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ اگر آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے کہ اسے انزال نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ حضرت عثمان نے فرمایا کہ وہ نماز والا وضو کرے اور اپنے آلہ تناسل کو دھولے۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں نے حضور سے بھی یو نہی سنا ہے۔ حضرت زید بن خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت ابی بن کعب سے یہی سوال کیا اور سب نے یہی جواب دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 970
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٩٢) ومسلم (٣٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 970، ترقيم محمد عوامة 970)