کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عورت کو کیسے غسل کرنے کا کہا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 869
٨٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن إبراهيم بن مهاجر عن صفية (ابنة) (١) شيبة عن عائشة قالت: دخلت أسماء ابنة (شكل) (٢) على رسول اللَّه ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه كيف تغتسل إحدانا إذا طهرت من المحيض؟ (٣) قال: "تأخذ سدرتها وماءها، فتوضأ وتغسل رأسها، وتدلكه حتى (تبلغ) (٤) الماء أصول شعرها، ثم تفيض الماء على جسدها، ثم تأخذ فرصتها فتطهر بها"، فقالت: يا رسول اللَّه كيف أتطهر بها؟ قال: "تطهري بها! "، قالت عائشة: فعرفت الذي يكني عنه، فقلت ⦗١٧٢⦘ (لها) (٥) تتبعي (آثار الدم) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ اسماء بنت شکل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ” جب کوئی عورت حیض سے پاک ہو تو کیسے غسل کرے ؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” بیری اور پانی لے کر پہلے وضو کرے۔ پھر اپنا سر دھوئے، پھر اس طرح سر کو ملے کہ پانی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر سارے جسم پر پانی بہائے، پھر حیض کا کپڑا پکڑے اور اس سے صفائی حاصل کرے “ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میں حیض کے کپڑے سے صفائی کیسے حاصل کروں ؟ فرمایا اس کے ذریعہ صفائی حاصل کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سمجھ گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا مراد ہے چناچہ میں نے اس عورت سے کہا کہ خون کے نشان صاف کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 869
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إبراهيم بن مهاجر صدوق، أخرجه مسلم (٣٣٢) وأحمد (٢٥١٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 869، ترقيم محمد عوامة 869)
حدیث نمبر: 870
٨٧٠ - حدثنا وكيع عن (هشام) (١) عن أبيه عن عائشة أن النبي ﷺ قال لها في الحيض: "انقضي شعرك، واغتسلي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی حالت حیض میں فرمایا اپنے بال کھولو اور غسل کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 870
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣١٩) ومسلم (١٢١١) وابن ماجة (٦٤١) وهو في الحج.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 870، ترقيم محمد عوامة 870)
حدیث نمبر: 871
٨٧١ - حدثنا وكيع قال حدثني مسعر عن أبي بكر بن عمارة بن (رويبة) (١) عن امرأة عن أم سلمة قالت: إن كانت إحدانا إذا اغتسلت من الجنابة؛ (لتبقي) (٢) ضفيرتها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ہم عورتوں میں سے کوئی غسل جنابت کرے تو اپنی مینڈیاں بندھی رہنے دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 871
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 871، ترقيم محمد عوامة 871)
حدیث نمبر: 872
٨٧٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن محمد بن سيرين: أنه سئل عن المرأة الثقيلة أو العظيمة لا تنال يدها (ظهرها) (١) عند الغسل من الجنابة أو الحيض، فقال: إنا (لنرجو) (٢) من رحمة اللَّه ما هو أعظم من ذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا ہاتھ جسم کے بڑے یا موٹا ہونے کی وجہ سے کمر تک نہ پہنچ سکتا ہو تو وہ غسل جنابت یا غسل حیض کیسے کرے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صفائی کی امید رکھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 872
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 872، ترقيم محمد عوامة 872)
حدیث نمبر: 873
٨٧٣ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن دينار قال قلت للحسن: الجارية العجمية لا تحسن تغتسل؟ قال: مرها (فلتمسح) (١) قبلها بخرقة، ولتغسله بالماء داخلا وخارجا، وتوضأ وضوءها للصلاة، ثم تغتسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت دینار کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے عرض کیا کہ عجمی باندی ٹھیک طرح سے غسل نہیں کرتی۔ فرمایا اسے حکم دو کہ کپڑے سے اپنی شرمگاہ کو صاف کرے پھر داخل وخارج سے پانی کے ذریعہ دھوئے پھر نماز والا وضو کرے پھر غسل کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 873
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 873، ترقيم محمد عوامة 873)