کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آدمی غسل جنابت کے بعد اپنی بیوی سے لیٹ کر گرمائش حاصل کر سکتا
حدیث نمبر: 829
٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (نسير) (١) عن إبراهيم التيمي: أن عمر كان يستدفئ بامرأته بعد (الغسل) (٢).
حدیث نمبر: 830
٨٣٠ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن عطاء الخرساني عن أم الدرداء قالت: كان أبو الدرداء يغتسل، ثم يجيء وله قرقفة يستدفئ بي (١).
حدیث نمبر: 831
٨٣١ - حدثنا حفص ووكيع عن مسعر عن جبلة عن ابن عمر قال: إني لاغتسل من الجنابة، ثم أتكوى بالمرأة قبل أن تغتسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں غسل جنابت کرنے کے بعد اپنی بیوی سے حرارت لیتا ہوں حالانکہ اس نے ابھی غسل جنابت نہیں کیا ہوتا۔
حدیث نمبر: 832
٨٣٢ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن إبراهيم بن المهاجر عن عبد اللَّه بن شداد عن ابن عباس قال: ذاك عيش قريش في الشتاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سردیوں میں یہ عمل قریش کی زندگی کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 833
٨٣٣ - حدثنا إسماعيل بن علية عن حجاج بن أبي عثمان قال: حدثنا يحيى بن أبي كثير قال: حدثني أبو كثير قال: قلت لأبي هريرة: الرجل يغتسل من الجنابة، ثم يضطجع مع أهله؟ قال: لا بأس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کثیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا کہ کیا آدمی غسل کرنے کے بعد بیوی کے ساتھ لیٹ سکتا ہے ؟ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 834
٨٣٤ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود قال: كان الأسود يجنب، فيغتسل، ثم يأتي أهله، فيضاجعها؛ يستدفئ بها قبل أن تغتسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسود فرماتے ہیں کہ حضرت اسود غسل جنابت کرنے کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ لیٹ جاتے اور ان سے حرارت حاصل کرتے حالانکہ ان کی اہلیہ نے ابھی غسل نہیں کیا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 835
٨٣٥ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان علقمة يغتسل، ثم يستدفئ (بالمرأة) (١) وهي جنب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ غسل کرنے کے بعد اپنی اہلیہ سے حرارت حاصل کیا کرتے تھے حالانکہ وہ حالت جنابت میں ہوتی تھیں۔
حدیث نمبر: 836
٨٣٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة: أنه كان يستدفئ بامرأته، ثم يقوم فيتوضأ (وضوءه) (١) للصلاة.
حدیث نمبر: 837
٨٣٧ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي: أنه كان يغتسل [من الجنابة، ثم يجيء (فيستدفئ) (١) بامرأته قبل أن تغتسل] (٢)، ثم يصلي ولا يمس ماء (٣).
حدیث نمبر: 838
٨٣٨ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: إذا اغتسل الجنب، ثم أراد أن يباشر امرأته، فعل إن شاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی غسل جنابت کرنے کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ لیٹنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 839
٨٣٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن شعبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: يباشرها وليس عليه وضوء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ لیٹے تو اس پر وضو نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 840
٨٤٠ - حدثنا وكيع عن مبارك عن الحسن قال: لا بأس أن يستدفئ بامرأته بعد الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ غسل کے بعد بیوی سے گرمائش لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 841
٨٤١ - حدثنا وكيع عن مسعر عن حماد: أنه كان يكرهه حتى يجف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اس کو (غسل کے بعد بیوی کے ساتھ لیٹنے کو) مکروہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ آدمی کا جسم خشک ہوجائے پھر کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 842
٨٤٢ - حدثنا شريك عن حريث عن الشعبي عن مسروق عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ يغتسل من الجنابة، ثم يستدفئ بي قبل أن أغتسل (١).