حدیث نمبر: 772
٧٧٢ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا بأس أن يفرق غسله من الجنابة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کے نزدیک غسل جنابت کی تفریق میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 773
٧٧٣ - حدثنا هشيم عن أبي حرة عن (الحسن) (١): أنه كان لا يرى بأسا أن يغسل الجنب رأسه قبل جسده، أو جسده قبل رأسه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی غسل جنابت میں جسم سے پہلے سر دھو لے یا سر سے پہلے جسم دھو لے۔
حدیث نمبر: 774
٧٧٤ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة: أن رجلا من أهله اغتسل من الجنابة، ونسي أن يغسل رأسه. قال: فأمرني أن أسأل سعيد بن المسيب عن ذلك، فسألته فقال: فليرجع فليغسل رأسه، قال: فذهبت فسكبت عليه من الوضوء حتى غسل رأسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حرملہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غسل جنابت کیا لیکن وہ اپنا سر دھونا بھول گیا۔ اس نے مجھے کہا کہ میں سعید بن المسیب سے مسئلہ پوچھوں۔ میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ جا کر اپنا سر دھو لے۔ میں نے انہیں مسئلہ بتایا اور انہیں وضو کا برتن دیا اور انہوں نے اپنا سر دھویا۔
حدیث نمبر: 775
٧٧٥ - حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل عن الزهري قال: كان أبو سلمة بن عبد الرحمن (يستسر) (١) على أهله؛ فيكره أن (يعلموا) (٢) به، [وكان يغسل جسده إلى حلقه ويكره أن يغسل رأسه؛ فيعلموا به] (٣)، فيأتي أهله، فيقول: إني لأجد في رأسي، فيدعو بالخطمي فيغسله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن جب اپنی زوجہ سے شرعی ملاقات فرماتے تو اس بات کو ناپسند خیال کرتے تھے کہ لوگوں کو اس کا علم ہو۔ چناچہ وہ حلق تک غسل کرلیتے لیکن سر دھونا انہیں پسند نہ تھا کہ بال گیلے دیکھ کر لوگوں کو اندازہ ہوجائے گا۔ پھر وہ گھر والوں کے پاس آتے اور کہتے میرے سر میں درد ہے، پھر خطمی نامی بوٹی منگوا کر سر دھو لیتے۔