٧٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن محاصم الأحول عن غنيم بن قيس عن ابن عمر: سئل عن الوضوء بعد الغسل؛ فقال: وأي وضوء أعم من الغسل؟! (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے غسل کے بعد وضو کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ کون سا وضو ہے جو غسل سے زیادہ پھیلاؤ رکھتا ہے ؟ !۔
٧٤٩ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن الأسود عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ لا يتوضأ بعد الغسل من الجنابة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل جنابت کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔
٧٥٠ - حدثنا أبو الأحوص (١) (سلام) (٢) عن (أبي إسحاق) (٣) قال: قال رجل من الحي لابن عمر: اني أتوضأ بعد الغسل؟ قال: لقد تعمقت؟ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے کہا کہ میں غسل کے بعد وضو کرتا ہوں، آپ نے فرمایا کہ تم فضول کام کرتے ہو !۔
٧٥١ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: جاء رجل إلى علقمة، فقال له: إن بنت أخيك توضأت بعد الغسل، فقال: إما إنها لو كانت (عندنا) (١) لم تفعل ذلك؛ وأي وضوء أعم من الغسل؟.
مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ حضرت علقمہ سے ایک آدمی نے کہا کہ آپ کی بھتیجی غسل کے بعد وضو کرتی ہے۔ حضرت علقمہ نے فرمایا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتی تو ایسا نہ کرتی، کون سا وضو ہے جو غسل سے زیادہ پھیلاؤ رکھتا ہے !۔
٧٥٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: وأي وضوء أعم من الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ کون سا وضو غسل سے زیادہ عام ہے !۔
٧٥٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن المهلب بن أبي حبيبة، سئل جابر (بن) (١) زيد: عن رجل اغتسل من الجنابة، فتوضأ وضوءه للصلاة، فخرج من مغتسله أيتوضأ؟ قال: (لا) (٢)؛ يجزئه أن يغسل قدميه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی نے غسل جنابت کیا، پھر نماز والا وضو کیا، پھر غسل خانے سے باہر آیا، کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا ؟ فرمایا نہیں، بس وہ اپنے پاؤں دھو لے۔
٧٥٤ - حدثنا وكيع عن معاذ بن العلاء عن سعيد بن جبير قال: سألته عن الوضوء بعد الغسل من الجنابة؟ فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن علاء فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے غسل کے بعد وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے ناپسند خیال فرمایا۔
٧٥٥ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن عكرمة في الرجل يغتسل من الجنابة وتحضره الصلاة أيتوضأ؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی نے غسل جنابت کیا، پھر نماز کا وقت ہوگیا تو کیا وہ وضو کرے گا ؟ فرمایا نہیں۔
٧٥٦ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن طلحة عن إبراهيم عن حذيفة قال: (أما) (١) يكفي أحدكم أن يغسل من لدن قرنه إلى قدمه حتى يتوضأ! (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جسم کو سر سے پاؤں تک دھونے کے بعد بھی کیا وضو کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔
٧٥٧ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يقال (الطهور) (١) قبل الغسل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وضو غسل سے پہلے ہوتا ہے۔
٧٥٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) قال: قال رجل لعبد اللَّه: إن فلانة توضأت بعد الغسل؟ قال: لو كانت عندي لم تفعل ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ سے کہا کہ فلاں عورت غسل کے بعد وضو کرتی ہے۔ فرمایا اگر وہ ہمارے پاس ہوتی تو ایسا نہ کرتی۔
٧٥٩ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن عطاء بن السائب عن أبي البختري: أن عليا كان يتوضأ بعد الغسل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ غسل کے بعد وضو فرمایا کرتے تھے۔