کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: دودھ پی کر وضو اور کلی نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 646
٦٤٦ - حدثنا ابن أبي شيبة قال: أخبرنا ابن علية عن أيوب عن ابن سيرين قال: (أنبئت) (١) أن ابن عباس شرب لبنا، فذكروا له الوضوء والمضمضة قال: لا أباليه بالة، اسمح؛ يسمح لك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دودھ پیا تو لوگوں نے وضو یا کلی کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا اس کی ضرورت نہیں، آسانی پیدا کرو تمہارے لئے بھی آسانی پیدا کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 646
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 646، ترقيم محمد عوامة 646)
حدیث نمبر: 647
٦٤٧ - حدثنا وكيع عن قرة بن خالد عن يزيد عن أخيه مطرف بن الشخير قال: شربت لبنا محضا بعد ما توضأت، فسألت ابن عباس؟ فقال: ما أباليه بالة، اسمح يسمح لك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف ابن شخیر فرماتے ہیں کہ میں نے وضو کرنے کے بعد دودھ پیا پھر اس بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں، آسانی پیدا کرو تمہارے لئے آسانی کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 647
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر [٥٤١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 647، ترقيم محمد عوامة 647)
حدیث نمبر: 648
٦٤٨ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة قال: سألت أبا عبد الرحمن عن الوضوء من اللبن؟ قال: من شراب سائغ للشاربين؟!.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عبد الرحمن سے دودھ پی کر وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو پینے والوں کے لئے ایک خوش گوار مشروب ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 648
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 648، ترقيم محمد عوامة 648)
حدیث نمبر: 649
٦٤٩ - حدثنا وكيع عن مسعر قال: قلت لجبلة أسمعت ابن عمر يقول: إني لآكل اللحم، وأشرب اللبن، وأصلي، ولا أتوضأ؟ قال: نعم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جبلہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں گوشت کھاتا ہوں اور دودھ پیتا ہوں اور پھر وضو کئے بغیر نماز پڑھتا ہوں، انہوں نے کہا ہاں میں نے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 649
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر [٥٤٠].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 649، ترقيم محمد عوامة 649)
حدیث نمبر: 650
٦٥٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب قال: كان أبو عبد الرحمن في المسجد، فأتاه مدرك بن عمارة بلبن، فشربه، فقال مدرك: هذا (ماء) (١)؛ فمضمصق قال: من أي شيء؟! من السائغ الطيب!؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن مسجد میں تھے کہ مدرک بن عمارہ ان کے پاس دودھ لائے، انہوں نے دودھ پی لیا تو مدرک نے کہا یہ پانی ہے کلی کرلیجئے۔ وہ کہنے لگے کیوں کلی کروں، کیا خوش گوار اور پاکیزہ چیز پی کر کلی کروں ؟ !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 650
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 650، ترقيم محمد عوامة 650)