حدیث نمبر: 590
٥٩٠ - حدثنا أبو الأحوص عن (أبي إسحاق) (١) عن يسار بن نمير قال: كان (عمر) (٢) إذا بال؛ مسح ذكره بحائط أو بحجر، ولم يمسه ماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر پیشاب کرنے کے بعد پتھر یا دیوار سے صفائی کرلیتے، پانی سے استنجاء نہ فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 591
٥٩١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم، أو مالك بن الحارث قال: مر سعد برجل يغسل مباله فقال: لم تخلطوا في دينكم ما ليس منه؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد ایک مرتبہ ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنی پیشاب کی جگہ کو دھو رہا تھا، انہوں نے فرمایا تم اپنے دین میں ایسی باتیں کیوں شامل کرتے ہو جو اس میں نہیں۔
حدیث نمبر: 592
٥٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن المستورد قال: رآني مجمع بن يزيد وأنا أغسل ذوي، فقال: ألم تكن تنفضت حين بلت؟ قلت: بلى قال: حسبك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مستور فرماتے ہیں کہ مجمع بن یزید نے مجھے دیکھا کہ میں پیشاب کی جگہ دھو رہا ہوں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے پیشاب کے بعد اسے صاف نہیں کیا تھا ؟ میں نے کہا ” کیوں نہیں “ فرمایا ” بس اتنا ہی کافی ہے “
حدیث نمبر: 593
٥٩٣ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة قال: كان أبي لا يغسل مباله، يتوضأ ولا يمس ماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ میرے والد پیشاب کی جگہ کو نہیں دھویا کرتے تھے۔ وہ وضو کرلیتے اور پانی سے استنجاء نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 594
٥٩٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن عطاء أن ابن الزبير رأى رجلا يغسل ذكره، فقال: ألا يغسل إسته! (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر نے ایک آدمی کو دیکھا کہ پیشاب کی جگہ دھو رہا ہے، آپ نے فرمایا یہ سرین کیوں نہیں دھوتا۔
حدیث نمبر: 595
٥٩٥ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن: في رجل بال ونسي أن يغسل ذكره قال: أجزأ ذلك عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن (اس شخص کے بارے میں جس نے پیشاب کیا اور پیشاب کی جگہ دھونا بھول گیا) فرماتے ہیں ” اس کے لئے کافی ہوگیا “۔
حدیث نمبر: 596
٥٩٦ - [حدثنا وكيع عن مسعر عن عبيد اللَّه بن القبطية عن ابن الزبير: أنه رأى رجلا يغسل عنه أثر الغائط؛ فقال: ما كنا نفعله] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو پاخانے کی جگہ دھو رہا تھا تو فرمایا ہم تو ایسا نہ کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 597
٥٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن يحيى التوأم عن ابن أبي مليكة عن أمه عن عائشة قالت: انطلق النبي ﷺ يبول، فاتبعه عمر بماء، فقال: "ما هذا يا عمر؟ " فقال: ماء توضأ به: فقال: "ما أمرت كلما بلت أن أتوضأ، ولو فعلت لكانت سنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کے لئے گئے تو حضرت عمر پانی لے کر آپ کے پیچھے چل پڑے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” اے عمر ! یہ کیا ہے “ فرمایا یہ پانی ہے آپ اس سے وضو کیجئے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” مجھے ہر مرتبہ پیشاب کے بعد وضو کا حکم نہیں دیا گیا، اگر میں ایسا کروں گا تو یہ عمل دین کا حصہ بن جائے گا “۔