٥٠٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر: أنه قبل صبيا، فمضمض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک بچے کا بوسہ لیا پھر کلی فرمائی۔
٥٠٦ - حدثنا ابن علية (١) عن ابن عون عن نافع أن ابن عمر: توضأ فقبل بنية له؛ فدعا بماء، (فتمضمض) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک بچی کا بوسہ لیا پھر پانی منگوا کر کلی فرمائی۔
٥٠٧ - حدثنا هشيم عن يحيى عن نافع عن ابن عمر: أنه كان إذا قبل (الصبي) (١)، مضمض فاه؛ ولم يتوضأ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب بچے کا بوسہ لیتے تو کلی فرماتے ۔ اور وضو نہیں فرمایا کرتے تھے۔
٥٠٨ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته عن قبلة الصبي بعد الوضوء؟. فقال: (إنما) (١) تلك رحمة لا وضوء فيها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے بچے کا بوسہ لینے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا ” یہ تو مہربانی اور رحمت کا اظہار ہے اس میں وضو واجب نہیں۔