حدیث نمبر: 461
٤٦١ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا ابن عون عن ابن سيرين: أنه كان يكره الوضوء بالماء الآجن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین مٹیالے اور گدلے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 462
٤٦٢ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عباد بن ميسرة عن الحسن: أنه كان لا يرى بأسا بالوضوء بالماء الآجن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری مٹیالے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 463
٤٦٣ - حدثنا محمد بن يزيد عن داود (١) بن عمرو قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يكره أن يتوضأ بالماء الآجن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن مخیمرہ مٹیالے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 464
٤٦٤ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن (يزيد) (١) بن إبراهيم قال: سئل قتادة عن الماء الذي قد أروح أنتوضأ به؟، قال: لا بأس بالماء (الطرق) (٢)، والماء (الرنق) (٣)، قال: الطرق: الذي: تطرقه الدواب وتخوضه، والرنق الذي قد أروح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے پوچھا گیا کہ ایسے پانی سے وضو کرنا جائز ہے جس کا ذائقہ اور رنگ بدل گئے ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ جس پانی سے جانور پیتے ہوں اور جس پانی میں بو پیدا ہوگئی ہو اس سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 465
٤٦٥ - حدثنا وكيع عن (أبي العميس) (١) عن أبي الربيع قال: كنت مع عبد الرحمن بن أبي ليلى، فمر بماء تخوض به الدواب وتبول فيه، فقال: لا بأس بالوضوء منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الربیع فرماتے ہیں کہ میں عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے ساتھ تھا۔ وہ ایسے حوض کے پاس سے گزرے جس سے جانور پانی پیتے تھے اور اس میں پیشاب بھی کردیتے تھے۔ انہوں نے فرمایا اس سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔