کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: عورت کے (طہارت کے بعد) بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 348
٣٤٨ - حدثنا ابن علية عن حبيب بن (شهاب) (١) عن أبيه أنه سأل أبا هريرة ⦗٧٥⦘ عن سؤر طهور المرأة يتطهر منه؟ قال: إن كنا لننقر حول قصعتنا (نغتسل) (٢) منها كلانا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ” ہم ایک بڑے برتن کے گرد بیٹھ کر پانی لیتے تھے اور اسی میں سے غسل کرتے تھے “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 348
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وسيأتي برقم (٣٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 348، ترقيم محمد عوامة 348)
حدیث نمبر: 349
٣٤٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر: أنه كان لا يرى بسؤر المرأة بأسا إلا أن تكون حائضا أو جنبا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما عورت کے استعمال شدہ پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، البتہ اگر عورت حیض یا جنابت میں مبتلا ہو تو پھر وہ احتیاط کا حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 349
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٣٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 349، ترقيم محمد عوامة 349)
حدیث نمبر: 350
٣٥٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي يزيد (المديني) (١) قال: سئل ابن عباس عن سؤر المرأة؟ فقال: هي ألطف (بنانا) (٢)، وأطيب ريحا! (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عورت کے پس ماندہ کا حکم پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ عورت تو ایک نفیس اور پاکیزہ چیز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 350
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 350، ترقيم محمد عوامة 350)
حدیث نمبر: 351
٣٥١ - حدثنا حفص بن غياث عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: لا بأس بفضل المرأة، ما لم تكن حائضا أو جنبا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت اگر حیض یا جنابت کا شکار نہ ہو تو اس کے پس ماندہ میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 351
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٣٩٤) والدارمي (١٠٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 351، ترقيم محمد عوامة 351)
حدیث نمبر: 352
٣٥٢ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا بأس بفضل وضوء المرأة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ عورت کے پس ماندہ میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 352
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 352، ترقيم محمد عوامة 352)
حدیث نمبر: 353
٣٥٣ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان (عن) (١) عكرمة قال: لا بأس بفضل وضوء المرأة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ عورت نے جس پانی کو وضو کے لئے استعمال کیا ہو اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 353
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 353، ترقيم محمد عوامة 353)
حدیث نمبر: 354
٣٥٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء: أنه سئل عن فضل الحائض يتوضأ منه؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے حائضہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 354
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 354، ترقيم محمد عوامة 354)
حدیث نمبر: 355
٣٥٥ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: اغتسل بعض أزواج النبي ﷺ في جفنة، فجاء رسول اللَّه ﷺ ليغتسل منها، أو ليتوضأ، فقالت: يا رسول اللَّه إني كنت جنبا، فقال النبي ﷺ: "إن الماء لا يجنب" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے ایک بڑے برتن پانی سے غسل فرمایا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پانی سے غسل یا وضو فرمانے لگے تو انہوں نے عرض کیا ” یا رسول اللہ ! میں حالت جنابت میں تھی “ آپ نے فرمایا ” پانی ناپاک نہیں ہوتا “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 355
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب، أخرجه أحمد (٢١٠٢) وأبو داود (٦٨) والترمذي (٦٥) وابن ماجه (٣٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 355، ترقيم محمد عوامة 355)