کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو بلی کے پس ماندہ سے وضو کو درست نہیں سمجھتے اور ان کے خیال میں ایسے برتن کو بھی دھویا جائے گا
٣٤١ - حدثنا ابن علية عن ليث عن عطاء عن أبي هريرة أنه قال في السنور إذا ولغ في الإناء قال: يغسل سبع مرات (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب بلی برتن میں منہ مار دے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے گا۔
٣٤٢ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد -في الإناء يلغ فيه الهر- قال: يغسل مرة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ جس برتن میں بلی منہ مار دے اسے ایک مرتبہ دھویا جائے گا۔
٣٤٣ - حدثنا معتمر عن يونس عن الحسن أنه سئل عن الإناء يلغ فيه السنور؟ قال: يغسل (مرة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر بلی برتن میں منہ مار دے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس برتن کو ایک مرتبہ دھویا جائے گا۔
٣٤٤ - حدثنا وكيع عن الحسن بن علي قال: سمعت عطاء يقول في الهر يلغ في الإناء: يغسله سبع مرات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس برتن میں بلی منہ مار دے اسے سات مرتبہ دھویا جائے گا۔
٣٤٥ - حدثنا وكيع عن عيسى بن المسيب عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الهر سبع" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلی بھی ایک درندہ ہے۔
٣٤٦ - حدثنا وكيع عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: يغسل مرتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ جس برتن میں بلی منہ مار دے اسے سات مرتبہ دھویا جائے گا۔
٣٤٧ - حدثنا غندر عن هشام عن قتادة (عن سعيد بن المسيب) (١) قال: يغسل مرتين أو ثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند کے مطابق حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ بلی کے پس ماندہ پانی کے برتن کو دو یا تین مرتبہ دھویا جائے گا۔