کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 326
٣٢٦ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: كان أبو قتادة يدني الإناء من السنور، فيلغ فيه، فيتوضأ بسؤره، ويقول: إنما هو من متاع البيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ بلی کے لئے برتن کو جھکا دیتے اور وہ اس سے پانی پیتی پھر آپ اسی پانی سے وضو فرما لیتے اور ارشاد فرماتے ” یہ تو گھر کا سامان ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 326
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 326، ترقيم محمد عوامة 326)
حدیث نمبر: 327
٣٢٧ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرنا مالك بن أنس قال أخبرني إسحاق ابن عبد اللَّه بن أبي طلحة الأنصاري عن (حميدة) (١) بنت عبيد بن رافع عن (كبشة) (٢) بنت كعب -وكانت تحت بعمق ولد أبي قتادة- أنها صبت لأبي قتادة ماء يتوضأ به، فجاءت هرة (تشرب) (٣)، فأصغى لها الإناء، فجعلت انظر! فقال (يا ⦗٧١⦘ بنية) (٤) أخي، أتعجبين؟ قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ليست بنجس؛ هي من الطوافين عليكم، أو من الطوافات" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ کی بہو حضرت کبشہ بنت کعب فرماتی ہیں کہ وہ حضرت ابو قتادہ کے لئے وضو کا پانی ڈال رہی تھیں کہ اتنے میں ایک بلی آئی وہ پیاسی تھی، چناچہ حضرت ابو قتادہ نے برتن اس بلی کے لئے جھکا دیا۔ میں اس منظر کو تعجب سے دیکھنے لگی تو انہوں نے فرمایا ” بیٹی تعجب کیوں کر رہی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بلی ناپاک نہیں ہے یہ تو تمہارے گھروں میں چکر لگانے والا جانور ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 327
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٢٥٨٠) والترمذي (٩٢) وأبو داود (٧٥) والنسائي (٦٨) وابن حبان (١٢٩٩) وابن ماجه (٣٦٧) وابن خزيمة (١٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 327، ترقيم محمد عوامة 327)
حدیث نمبر: 328
٣٢٨ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (ابن حكيم) (١) قال: سألت أبا وائل عن سؤر السنور؟ فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو وائل سے بلی کے جوٹھے کا حکم دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 328
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 328، ترقيم محمد عوامة 328)
حدیث نمبر: 329
٣٢٩ - حدثنا شريك عن الركين (١) عن صفية (بنت داب) (٢) قالت: سألت (الحسين) (٣) بن علي (٤) عن الهر؟ فقال: (هو من أهل البيت) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ بنت داب فرماتی ہیں کہ میں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بلی کے جوٹھے کا حکم دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا ” وہ تو گھر کا ایک حصہ ہے “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 329
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 329، ترقيم محمد عوامة 329)
حدیث نمبر: 330
٣٣٠ - حدثنا ابن علية عن خالد عن عكرمة عن ابن عباس قال: الهر من متاع البيت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بلی گھر کا ایک سامان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 330
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٣٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 330، ترقيم محمد عوامة 330)
حدیث نمبر: 331
٣٣١ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن رجل من أهل المدينة قال: وضع لعبد اللَّه بن عمر طهوره، فشربت منه السنور، فجاء عبد اللَّه ليتوضأ منه، فقيل له: إن السنور (قد) (١) شربت منه، فقال: إنما هي من أهل البيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک مدنی شخص روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا۔ اس پانی میں بلی نے منہ مارا۔ وضو کرنے کے لئے تشریف لائے تو انہیں اس بارے میں بتایا گیا، انہوں نے فرمایا ” بلی تو گھر کا حصہ ہے “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 331
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 331، ترقيم محمد عوامة 331)
حدیث نمبر: 332
٣٣٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس بسؤر السنور.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں ” بلی کے جوٹھے میں کوئی حرج نہیں “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 332
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 332، ترقيم محمد عوامة 332)
حدیث نمبر: 333
٣٣٣ - حدثنا روح بن عبادة عن محمد بن عبد الرحمن (العدني) (١) قال: سمعت محمد بن علي يقول: لا بأس أن يتوضأ بفضل الهر، ويقول: هي من متاع البيت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” بلی کے پس ماندہ سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ؟ وہ تو گھر کا حصہ ہے “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 333
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 333، ترقيم محمد عوامة 333)
حدیث نمبر: 334
٣٣٤ - حدثنا (أبو بحر) (١) البكراوي عن الجريري أو خالد قال: ولغت هرة في إناء لأبي العلاء، فتوضأ بفضلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بلی نے حضرت ابو العلاء کے برتن میں سے پانی پیا تو انہوں نے اس کے پس ماندہ سے وضو کر لیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 334
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 334، ترقيم محمد عوامة 334)
حدیث نمبر: 335
٣٣٥ - حدثنا عبد الرحيم عن أشعث عن الحسن: أنه كان لا يرى بأسا بسؤر السنور.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بلی کے جوٹھے کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 335
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 335، ترقيم محمد عوامة 335)
حدیث نمبر: 336
٣٣٦ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن إسرائيل عن (السدي) (٢) عن عكرمة قال: كان العباس بن عبد المطلب يوضع له الوضوء، فيشغله الشيء، فيجيء (الهر) (٣) فيشرب منه، فيتوضأ منه ويصلي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب کبھی حضرت عباس بن عبد المطلب کے لئے وضو کا پانی رکھا جاتا اور وہ کسی کام میں مصروف ہوتے، اس دوران اگر بلی آ کر اس میں منہ مار لیتی تو وہ اس پانی سے وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 336
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 336، ترقيم محمد عوامة 336)
حدیث نمبر: 337
٣٣٧ - حدثنا ابن مهدي عن سليم بن حيان عن أبي غالب قال: سمعت (أبا أمامة) (١) يقول: الهر من متاع البيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ بلی گھر کا ایک سامان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 337
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 337، ترقيم محمد عوامة 337)
حدیث نمبر: 338
٣٣٨ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا يحيى بن مسلم أبو الضحاك الهمداني عن أمه عن مولاها: عوف بن مالك الجابري عن علي: أنه سئل عن سؤر الهر؟ فقال: لا بأس به] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بلی کے پس ماندہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 338
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 338، ترقيم محمد عوامة 338)
حدیث نمبر: 339
٣٣٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة وعلي بن المبارك عن إسحاق ابن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن امرأة عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبي قتادة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الهر من الطوافين عليكم، أو من الطوافات" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” بلی گھر میں چکر لگانے والے (جانوروں) میں سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 339
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وتقدم برقم [٣٢٧].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 339، ترقيم محمد عوامة 339)
حدیث نمبر: 340
٣٤٠ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن أبي إسحاق قال: ولغ هر في لبن (لآل) (١) علقمة، فأرادوا أن يهريقوه، فقال علقمة: إنه ليتفاحش في صدري أن أهريقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بلی نے حضرت علقمہ کے گھر دودھ میں منہ مار دیا، گھر والے اس دودھ کو گرانا چاہتے تھے لیکن حضرت علقمہ نے فرمایا کہ اسے گرانا میرے دل پر گراں گزرتا ہے !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 340
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 340، ترقيم محمد عوامة 340)