حدیث نمبر: 314
٣١٤ - حدثنا ابن علية عن بن جريج عن عطاء: أنه كان لا يرى بأسا بسؤر الحمار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء گدھے کے جوٹھے کو مکروہ نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 315
٣١٥ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: (لا بأس بسؤر الحمار).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الحباب فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید گدھے کے جوٹھے کو مکروہ نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 316
٣١٦ - [حدثنا محمد بن (سواء) (١) عن أبي (الجناب) (٢) أن جابر بن زيد: كان لا يرى بأسا بسؤر الحمار] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ گدھے کے جوٹھے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 317
٣١٧ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت (الحكم) (١) قلت: توضأت بفضل سؤر الحمار، فصليت؟ قال: لا تعد. وسألت حمادا، فقال: أحب إليَّ أن تعيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے پوچھا ” میں نے گدھے کے جوٹھے سے وضو کیا پھر میں نے نماز پڑھ لی تو کیا میں نماز دوبارہ پڑھوں ؟ حضرت حکم نے فرمایا کہ نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔ میں نے اس بارے میں حضرت حماد سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا ” میں اس بات کو بہتر سمجھتا ہوں کہ تم دوبارہ نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 318
٣١٨ - [حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر (عن) (١) عامر قال: لا بأس بسؤر البغل] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ خچر کے جوٹھے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 319
٣١٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: لا بأس بسؤر كل دابة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ کسی جانور کے جوٹھے میں کوئی حرج نہیں۔