٣٠٦ - حدثنا حفص بن غياث عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر (١): أنه كان يكره سؤر الحمار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر گدھے کے جوٹھے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٣٠٧ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن حجاج وعبيد اللَّه، عن نافع عن ابن عمر: أنه كان يكره سؤر الحمار (والكلب) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما گدھے اور کتے کے جوٹھے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٣٠٨ - حدثنا (حفص) (١) بن غياث عن أشعث عن الحسن وابن سيرين: أنهما كانا يكرهان (سؤر) (٢) الحمار والكلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن اور حضرت ابن سیرین گدھے اور کتے کے جوٹھے کو ناپسندیدہ اور مکروہ خیال کرتے تھے۔
٣٠٩ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره سؤر البغل والحمار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم خچر اور گدھے کے جوٹھے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٣١٠ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: البغل من الحمار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ خچر، گدھے کی جنس سے ہے۔
٣١١ - حدثنا عبد الرحيم عن أشعث عن الحسن: أنه كان يكره سؤر الحمار والبغل والكلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث کہتے ہیں کہ حسن گدھے، خچر اور کتے کے جوٹھے کو مکروہ خیال کرتے تھے۔
٣١٢ - حدثنا ابن علية عن (هشام) (١) الدستوائي عن حماد عن إبراهيم قال: كان يقول: لا توضأ بسؤر الحمار، ولا بسؤر البغل، ولا بسؤر شيء من السباع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ گدھے، خچر اور کسی بھی درندے کے جوٹھے سے وضو مت کرو۔
٣١٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (ابن) (١) حكيم قال: سألت أبا وائل عن سؤر الكلب؟ فقال: ما أحب مشاركته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے کتے کے جوٹھے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا ” میں تو اسے چھونا بھی پسند نہیں کرتا “