حدیث نمبر: 84
٨٤ - حدثنا يحيى بن سليم عن إسماعيل بن كثير عن عاصم بن لقيط بن صبرة عن أبيه قال: قلت: يا رسول اللَّه أخبرني عن الوضوء. قال: "أسبغ الوضوء، وخلل بين الأصابع، وبالغ في الاستنشاق إلا أن تكون صائما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لقیط بن صبرہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! مجھے وضو کا طریقہ بتا دیجئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خوب اچھی طرح وضو کرو، انگلیوں کا خلال کرو، اچھی طرح کلی کرو اگر روزہ کی حالت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 85
٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن واقد عن مصعب بن سعد قال: مر عمر على قوم يتوضؤون فقال: (خللوا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا ”انگلیوں کا خلال کرو۔ “
حدیث نمبر: 86
٨٦ - حدثنا أبو الأحوص عن (أبي) (١) مسكين عن هزيل قال: قال عبد اللَّه: لينهكن الرجل ما بين أصابعه بالماء (٢)، أو لتنهكنه النار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم اپنی انگلیوں کے درمیانی حصہ کو تر کر لو ورنہ آگ اسے جلائے گی۔
حدیث نمبر: 87
٨٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق قال: حدثني من سمع حذيفة يقول: خللوا بين الأصابع في الوضوء قبل أن تخللها النار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی انگلیوں کا خلال کر لو ورنہ آگ انہیں جلائے گی۔
حدیث نمبر: 88
٨٨ - حدثنا هشيم عن عمران بن أبي عطاء قال: رأيت ابن عباس توضأ، فغسل قدميه حتى تتبع بين أصابعه فغسلهن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن ابی عطاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں دھوئے اور پھر پوری احتیاط کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کو کھول کر انہیں بھی دھویا۔
حدیث نمبر: 89
٨٩ - حدثنا ابن علية عن محمد بن إسحاق عن شيبة بن نصاح قال: صحبت القاسم بن محمد إلى مكة، فرأيته إذا توضأ للصلاة يدخل أصابع يديه بين أصابع رجليه. قال: (وهو يصب الماء) (١) عليها، فقلت له: يا أبا محمد لم تصنع هذا؟ قال: رأيت عبد اللَّه بن عمر يصنعه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبہ بن نصاح کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد کے ساتھ مکہ تک کا سفر کیا۔ دوران وضو وہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو پاؤں کی انگلیوں میں ڈالتے اور ان پر پانی بہاتے۔ میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حصرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یونہی کرتے دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 90
٩٠ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن ابن عمر أنه رآه في سفر ينزع خفيه، ثم يخلل أصابعه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک سفر میں موزے اتار کر انگلیوں کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 91
٩١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن طلحة عن عبد اللَّه قال: خللوا بين أصابعكم بالماء قبل أن (تحشوها) (١) النار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پانی سے اپنی انگلیوں کا خلال کر لو تا کہ آگ انہیں جلا نہ سکے۔
حدیث نمبر: 92
٩٢ - حدثنا يحيى بن (يعلى) (١) التيمي عن منصور عن طلحة عن عبد اللَّه، بمثل حديث ابن نمير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول ایک اور سند سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 93
٩٣ - حدثنا وكيع عن (أبي) (١) (مكين) (٢) عن عكرمة قال: إذا توضأت، فابدأ بأصابعك فخللها، فإنه كان يقال: هو مقيل الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب تم وضو کرو تو انگلیوں سے اس کی ابتداء کرو۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ انگلیاں شیطان کا ٹھکانہ ہیں۔
حدیث نمبر: 94
٩٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن عبد الأعلى قال: رأيت ابن الحنفية توضأ، فخلل أصابعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالاعلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن الحنفیہ کو دیکھا کہ وہ وضو میں انگلیوں کا خلال کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 95
٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الحسن قال: خللوا أصابعكم بالماء؛ لا تخللها نار قليل (متقيها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ پانی سے اپنی انگلیوں کا خلال کر لو تا کہ خشک حصے کو جلانے والی آگ اسے چھو نہ سکے۔
حدیث نمبر: 96
٩٦ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن هشام عن (يحيى) (١) أن أبا بكر الصديق ﵁ قال: لتخللن أصابعكم بالماء، أو ليخللنها اللَّه بالنار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انگلیوں کا خلال کرو تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں آگ سے محفوظ کر دے۔
حدیث نمبر: 97
٩٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن واصل بن السائب عن أبي سورة عن عمه أبي أيوب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "حبذا المتخللون؛ أن تخلل بين أصابعك بالماء، وأن تخلل من الطعام" (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خلال کرنے والوں کی کیا بات ہے ! تمہیں چاہیے کہ تم پانی سے انگلیوں کا خلال کرو اور کھانے کے بعد دانتوں کا بھی خلال کرو۔ “