حدیث نمبر: 9994
٩٩٩٤ - (حدثنا) حسين بن علي قال: سألت ابن جريج فذكر عن عطاء أن رجلًا أهل هلالًا من (١) الأرض قال: فسمع قائلًا يقول: اللهم أهله علينا بالأمن و (الإيمان) (٢) والسلامة و (ا) (٣) لإسلام والهدى والمغفرة والتوفيق لما ترضى والحفظ (مما) (٤) تسخط، ربي وربك اللَّه قال: فلم (يزل) (٥) (يلقنهن) (٦) (حتى) (٧) (حفظتهن) (٨) وما (أرى) (٩) (أحدًا) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ایک آدمی کو دیکھا کہ جب ایک ویرانے میں اسے چاند نظر آیا تو اس نے یہ کلمات کہے : اے اللہ ! اس چاند کو ہم پر امن وایمان، سلامتی وسلام، ہدایت و مغفرت اور ایسی توفیق کے ساتھ طلوع فرما جس سے تو راضی ہو، ان کاموں سے حفاظت عطا فرما جو تیری ناراضگی کا سبب ہوں۔ میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ مسلسل یہ کلمات کہتا رہا یہاں تک کہ میں نے انہیں زبانی یاد کرلیا۔ میں نے کسی کو یہ کلمات کہتے نہیں دیکھا۔

حواشی
(١) في [ح] زيادة: (أهل).
(٢) في [ب، هـ]: (الأمان).
(٣) سقط من: [ص].
(٤) في [أ]: (بما).
(٥) في [ح]: (سقطت).
(٦) في [ب، ح]: (يلقيهن) وفي [هـ]: (يتلقنهن)، وفي [ط]: (ـلصهى).
(٧) في [و]: (مع).
(٨) في [ب، ص، ز، هـ]: (حفظهن).
(٩) في [ب، هـ]: (رأى).
(١٠) في [أ]: (أحد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9994، ترقيم محمد عوامة 9827)