حدیث نمبر: 9969
٩٩٦٩ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن ليث عن عبد الملك عن عطاء عن ابن عمر قال: أتت امرأة (إلى) (٢) النبي ﷺ فقالت: يا نبي اللَّه ما حق الزوج على زوجته قال: "لا (تصوم) (٣) إلا بإذنه (٤) إلا الفريضة فإن فعلت أثمت ولم يقبل (منها) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! خاوند کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے، اگر اس نے ایسا کیا تو وہ گناہ گار ہوگی اور اس کا یہ عمل قبول نہ ہوگا۔

حواشی
(١) في [أ، ص، ز، هـ]: (عبد الرحمن) وانظر: المصنف (١٧٣٦٤) والمطالب العالية ٨/ ٣٣١ والتمهيد ١/ ٢٣١ وميزان الاعتدال ٥/ ٥١١.
(٢) سقط من: [ص، ك].
(٣) في [و]: (يصوم).
(٤) في [ك]: زيادة (بإذنه).
(٥) في [ب]: (عنها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9969
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث بن أبي سليم، أخرجه البيهقي ٧/ ٢٩٢ والطيالسي (١٩٥١) وعبد بن حميد (٨١٣) ومسدد كما في المطالب (١٦٦٤) وابن عبد البر في التمهيد ١/ ٢٣١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9969، ترقيم محمد عوامة 9802)