حدیث نمبر: 9927
٩٩٢٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن واصل الأحدب عن إبراهيم قال: جاء حذيفة إلى عبد اللَّه فقال: ألا أعجبك من (قوم) (١) عكوف بين دارك (وبين) (٢) دار الأشعري يعني (المسجد) (٣) قال عبد اللَّه: (فلعلهم) (٤) أصابوا وأخطأت، فقال ⦗٩٨⦘ حذيفة: أما علمت أنه لا اعتكاف إلا في ثلاثة (مساجد) (٥): المسجد الحرام والمسجد الأقصى (ومسجد) (٦) (الرسول) (٧) ﷺ، وما أبالي (اعتكف) (٨) (فيه أو في) (٩) سوقكم هذه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہایک مرتبہ حضرت عبد اللہ کے پاس آئے اور ان سے فرمایا کہ کیا آپ کو ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو آپ کے اور اشعری کے گھر کے بیچ یعنی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ شاید وہ ٹھیک ہیں اور آپ غلطی پر ہیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ اعتکاف صرف تین مسجدوں میں ہوتا ہے۔ ایک مسجد حرام، دوسری مسجد اقصیٰ اور تیسری مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، میرے خیال میں اس مسجد میں جس میں وہ لوگ اعتکاف میں بیٹھے ہیں، اعتکاف کرنا اور بازار میں اعتکاف کرنا برابر ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (قومك).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ب]: (مسجد).
(٤) في [أ، هـ]: (ولعلهم).
(٥) في [ص]: (مساجد).
(٦) في [ص]: (المسجد).
(٧) في [هـ، ز]: (رسول اللَّه).
(٨) في [ص]: (اعتكفت).
(٩) سقط من: [أ].
(١٠) منقطع؛ إبراهيم لم يسمع من حذيفة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9927
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9927، ترقيم محمد عوامة 9762)