حدیث نمبر: 9860
٩٨٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن الأسود بن قيس قال: سمعت (سعيد) (١) بن عمرو يحدث (أنه سمع ابن عمر يحدث) (٢) عن النبي ﷺ قال: " (إنا) (٣) أمة أمية لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا (وهكذا) (٤) "، (وعقد) (٥) الإبهام في الثالثة: "والشهر هكذا وهكذا (وهكذا) (٦) "، يعني تمام الثلاثين (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہم ایک ان پڑھ امت ہیں، ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔ مہینہ اتنا ہوتا ہے، اتنا ہوتا ہے، اتنا ہوتا ہے۔ آپ نے تیسری مرتبہ میں انگوٹھے سے گرہ بنائی۔ (یعنی انتیس تک گنوایا) پھر فرمایا کہ مہینہ اتنا ہوتا ہے اتنا ہوتا ہے اتنا ہوتا ہے۔ اس مرتبہ آپ نے پورے تیس تک گنوایا۔
حواشی
(١) في [أ]: "سعد" وسقطت [ص].
(٢) سقط من: [ص] وفي [هـ]: (سمعت سعيد بن عمرو وابن عمر يحدث أنه سمع ابن عمر).
(٣) في [أ]: (إنّ).
(٤) سقط من: [أ، ص، هـ].
(٥) في [ص]: (وعد).
(٦) سقط من: [أ].