حدیث نمبر: 9827
٩٨٢٧ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن أبي عطية الوادعي قال: تدارا (وتمارى) (١) رجلان في المسجد في رجل يصبح وهو جنب، فانطلقا إلى ⦗٧٦⦘ عبد اللَّه فانطلقت معهما، فسأله أحدهما فقال: (أيصوم؟) (٢) (قال) (٣): نعم. قال: فإن كان من النساء؟ قال: وإن كان من النساء. قال: وإن نام متعمدًا؟ قال: وإن نام متعمدًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عطیہ وادعی کہتے ہیں کہ مسجد میں دو آدمیوں کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہوا جو حالت جنابت میں صبح کرے۔ وہ دونوں حضرت عبد اللہ کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ ان میں سے ایک نے سوال کیا کہ کیا وہ روزہ رکھے گا ؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس نے سوال کیا کہ اگر کسی عورت کے ساتھ یہ صورت پیش آئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ خواہ کسی عورت کے ساتھ یہ صورت پیش آئے۔ اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر ایساکرے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں، خواہ وہ جان بوجھ کر ایسا کرے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ك]، وفي [ص]: (تمارّي)، وفي الحاشية (كذا في الأصل)، وفي [هـ]: (وتماريا).
(٢) في [ب، ك]: (أتصوم).
(٣) في [أ]: (فقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9827
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9827، ترقيم محمد عوامة 9665)