حدیث نمبر: 9764
٩٧٦٤ - حدثنا الثقفي عن حميد عن أنس عن عبادة بن الصامت قال: خرج علينا رسول اللَّه ﷺ وهو يريد أن يخبرنا (بليلة) (١) القدر، فتلاحى رجلان فقال: "إني خرجت وأنا أريد أن أخبركم بليلة القدر، فتلاحى فلان وفلان لعل ذلك (أن يكون) (٢) خيرا، (التمسوها) (٣) في التاسعة والسابعة والخامسة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو شبِ قدر کے بارے میں بتانے کے لئے باہر تشریف لائے تو دو آدمی لڑ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں شبِ قدر کی اطلاع دینے کے لئے آیا تھا، لیکن فلاں اور فلاں دونوں لڑ رہے تھے، شاید اسی میں خیر ہوگی، تم اسے نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔

حواشی
(١) في [ك]: (ليلة).
(٢) في [ك]: (التمسوها).
(٣) في [ك]: سقطت.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9764
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٤٩) وأحمد (٢٢٦٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9764، ترقيم محمد عوامة 9604)