حدیث نمبر: 9657
٩٦٥٧ - حدثنا شبابة عن ليث عن بكير بن الأشج عن عبد الملك بن سعيد الأنصاري عن جابر بن عبد اللَّه عن عمر بن الخطاب قال: هششت إلى المرأة فقبلتها وأنا صائم قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "أرأيت لو تمضمضت (بماء) (١) ⦗٣٢⦘ وأنت صائم"، قال: قلت: لا بأس قال: " (ففيم) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابربن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنی بیوی کو دیکھ کر رہا نہیں گیا اور میں نے روزے کی حالت میں اس کا بوسہ لے لیا، اب کیا کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم روزے کی حالت میں کلی کرسکتے ہو ؟ حضرت عمر نے فرمایا جی ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بیوی کا بوسہ لینے میں کیا حرج ہے ؟

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (فيتم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9657
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أبو داود (٢٣٨٥) وأحمد (١٣٨) والنسائي في الكبرى (٢٩٤٥) وابن خزيمة (١٩٩٩) وابن حبان (٣٥٤٤) والحاكم ١/ ٤٣١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9657، ترقيم محمد عوامة 9498)