حدیث نمبر: 9631
٩٦٣١ - حدثنا وكيع بن الجراح عن حاجب بن (عمر) (١) عن الحكم بن الأعرج قال: انتهيت إلى ابن عباس وهو متوسد رداءه في زمزم فقلت: أخبرني عن (صيام) (٢) (يوم) (٣) عاشوراء، فقال: إذا رأيت هلال المحرم فأعدد وأصبح صائمًا لتاسع، قلت: (هكذا) (٤) كان محمد (رسول اللَّه ﷺ) (٥) (يصومه؟ قال: نعم) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا وہ زمزم کے کنویں سے ٹیک لگائے بیٹھتے تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے عاشوراء کے روزے کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ جب تم محرم کے چاند کو دیکھو تو اس دن کی تیاری شروع کردو۔ پھر نو تاریخ کو روزہ رکھو۔ میں نے کہا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روزہ رکھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔

حواشی
(١) في [ز]: (عمير).
(٢) في [أ، ص، ز، ك]: (صوم).
(٣) سقط من: [أ، ص، ز، ك].
(٤) في [أ]: (هذا).
(٥) سقط من: [أ، ب، ك].
(٦) يعني يوم عاشوراء، وسقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9631
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (١١٣٣) وأحمد (٣٢١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9631، ترقيم محمد عوامة 9472)