حدیث نمبر: 9610
٩٦١٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: دخل الأشعث بن قيس على عبد اللَّه وهو يتغدى قال: يا أبا محمد ادن إلى (غدائي) (١) فقال: أو ليس اليوم يوم عاشوراء؟ فقال: وهل تدري ما يوم عاشوراء؟ (فقال) (٢): وما هو؟ قال: إنما هو يوم كان رسول اللَّه ﷺ يصومه قبل أن (ينزل) ⦗٢١⦘ (عليه) (٣) شهر (رمضان) (٤) فلما نزل شهر رمضان (تركه) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اشعث بن قیس حضرت عبداللہ کے پاس حاضر ہوئے۔ حضرت عبداللہ کھانا کھا رہے تھے ، آپ نے اشعث بن قیس کو بھی کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشوراء کا دن نہیں ؟ حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو عاشوراء کا دن کیا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کی فرضیت سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے، جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے اس دن روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔
حواشی
(١) في [أ، ص، ك]: (غداء).
(٢) في [أ، ب، ص، ك]: (قال).
(٣) سقط من: [أ، ص، ك].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [أ، ص، ك]: (ترك).