مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من كره أن يحتجم الصائم باب: جن حضرات کے نزدیک روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 9557
٩٥٥٧ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن حميد عن (بكر) (١) عن أبي العالية قال: دخلت على أبي موسى وهو أمير البصرة ممسيًا فوجدته يأكل تمرًا و (كامخًا) (٢) وقد احتجم فقلت له: ألا تحتجم بنهار؟ فقال: أتأرني أن أهريق دمي وأنا صائم؟ (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ جب بصرہ کے گورنر تھے، اس دوران شام کے وقت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ کھجور اور کوئی سالن کھا رہے تھے اور انہوں نے پچھنے لگوائے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے دن کو پچھنے کیوں نہیں لگوائے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں روزہ کی حالت میں اپنا خون بہاؤں ؟
حواشی
(١) في [أ]: (بن بكير)، وفي [ك، ب]: (بن بكر).
(٢) في [ص]: (كامجًا). والكامخ نوع من أنواع المخللات.