حدیث نمبر: 9411
٩٤١١ - حدثنا (ابن أبي غنية) (١) عن أبيه عن الحكم أنه كان لا يرى بأسًا بالسواك للصائم من أول النهار، وقال: إنما كره له آخر النهار بعد ما (تخلف) (٢) فوه يستحب أن يرجع في جوفه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم کے نزدیک روزہ دار کے لئے دن کے ابتدائی حصہ میں مسواک کرنا جائز ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دن کے آخری حصہ میں مسواک کرنا مکروہ ہے تاکہ معدے کے خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بو واپس چلی جائے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (أبي عيينة)، وفي [ف]: (ابن عيينة)، وفي [أ، ص، ك]: (ابن أبي عيينة).
(٢) في [ص]: (يخلف).