حدیث نمبر: 9403
٩٤٠٣ - حدثنا ابن فضيل عن (خصيف) (١) عن عطاء قال: استك أول النهار ولا تستك آخره إذا كنت صائمًا. قلت: لم (لم) (٢) أستك في آخر النهار؟ قال: إن خلوف فم الصائم أطيب عند اللَّه من ريح المسك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت خصیف فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے فرمایا کہ جب تمہارا روزہ ہو تو دن کے ابتدائی حصہ میں مسواک کرو، دن کے آخری حصہ میں مسواک نہ کرو۔ میں نے کہا کہ دن کے آخری حصہ میں مسواک کیوں نہ کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ص، ز]: (حصيف).
(٢) سقط من: [أ، ز، ك]، وفي [ب]: (لا).