حدیث نمبر: 9361
٩٣٦١ - حدثنا يحيى بن سليم الطائفي عن موسى بن عقبة عن محمد بن المنكدر قال: بلغني أن النبي ﷺ سئل عن تقطيع (قضاء) (١) رمضان (فقال) (٢): "ذاك إليك"، (فقال) (٣): "أرأيت لو كان على أحدكم دين فقضى الدرهم والدرهمين ألم يكن قضاء واللَّه أحق أن يعفو ويغفر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ رمضان کی قضاء میں تقطیع اور تفریق کی جاسکتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں ایسا کرسکتے ہو۔ دیکھو اگر تم میں سے کسی پر قرضہ ہو اور وہ ایک یا دو دو درہم کرکے اسے ادا کرے تو کیا قرضہ ادا نہ ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ تو زیادہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [أ]: (فقيل).
(٣) في [هـ]: (وقال) وسقط من: [ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9361
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه الدارقطني ٢/ ١٩٤، والبيهقي ٤/ ٢٥٩ وأبو القاسم البغوي في مسائل أحمد (٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9361، ترقيم محمد عوامة 9206)