مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
من كان يفطر من التطوع ولا يقضي باب: جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
٩٣٤٦ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك (عن إبراهيم) (١) عن (ابن أم هانيء عن) (٢) (أم) (٣) هانئ (قالت) (٤): كنت قاعدة عند رسول اللَّه ﷺ فأتي بشراب فشرب منه ثم ناولنيه فشربت، قالت: (فقلت) (٥): يا رسول اللَّه قد أذنبت فاستغفر لي قال: "وما ذاك؟ " قالت: كنت صائمة فأفطرت قال: "أمن قضاء كنت تقضينه؟ " قالت: لا، قال: "لا يضرك" (٦).حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی تھی۔ آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی جو آپ نے پی لی۔ آپ نے وہ چیز مجھے دی میں نے بھی اس میں سے پی لیا۔ پھر میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، میرے لئے استغفار فرمادیجئے۔ آپ نے پوچھا تم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں روزے سے تھی میں نے روزہ توڑ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم کسی روزے کی قضا کررہی تھیں ؟ میں نے کہا نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں۔