حدیث نمبر: 9303
٩٣٠٣ - حدثنا أبو أسامة (حدثنا) (١) زكريا عن أبي إسحاق قال: غزوت مع زياد بن النضر أرض الروم قال، فأهللنا رمضان فصام الناس وفيهم أصحاب عبد اللَّه عامر بن سعد وسميع وأبو عبد اللَّه (و) (٢) أبو معمر و (أبو مسافع) (٣)، فأفطر الناس يومًا والسماء (مغيمة) (٤) ونحن بين جبلين الحارث والحويرث ولم أفطر أنا حتى تبين الليل، ثم إن الشمس خرجت فأبصرناها (على) (٥) الجبل، فقال زياد: أما هذا اليوم فسوف نقضيه ولم (نتعمد) (٦) فطره.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں سرزمین روم میں حضرت زیاد بن نضر کے ساتھ تھا۔ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا تو لوگوں نے روزہ رکھا جن میں حضرت عبد اللہ، عامر بن سعد، سمیع، ابوعبد اللہ، ابو معمر اور ابو مسافع تھے۔ لوگوں نے ایک دن روزہ رکھا اس دن آسمان پر بادل تھے۔ ہم حارث اور حویرث نامی دو پہاڑوں کے درمیان تھے۔ میں نے اس وقت تک افطار نہ کیا جب تک رات ظاہر نہ ہوگئی۔ پھر سورج نکلا اور ہم نے پہاڑوں پر اسے دیکھا۔ تو زیاد نے کہا کہ ہم اس دن کی قضا کریں گے اور ہم نے اس روزے کا اعتبارنہ کیا۔

حواشی
(١) في [ص]: (عن).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ب]: (وأبو مشافع).
(٤) في [أ، ص، ز]: (متغيمة).
(٥) في [أ]: (أعلى).
(٦) في [أ، ص]: (يتعمد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9303
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9303، ترقيم محمد عوامة 9148)