حدیث نمبر: 9258
٩٢٥٨ - حدثنا عبد الوهاب عن أيوب (عن أبي يزيد) (١) عن أم (ذوة) (٢) قالت: أتيت عائشة فقالت: من أين جئت فقلت: من عند (أخي) (٣) فقالت: ما شأنه قلت: ودعته (يريد) (٤) أن يرتحل قالت: (فاقرئيه) (٥) مني السلام (ومريه) (٦) به فليقم فلو أدركني وأنا (ببعض) (٧) الطريق لأقمت يعني رمضان (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام ذرہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئی انہوں نے کہا کہ تم کہاں سے آرہی ہو ؟ میں نے کہا میں اپنے بھائی کے پاس سے آرہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کیا حال ہے ؟ میں نے کہا میں اسے رخصت کرکے آئی ہوں وہ سفر پر جانا چاہتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اسے میری طرف سے سلام کہنا اور اس کو حکم دینا کہ ابھی مقیم رہے جب تک رمضان ہے۔ اگر وہ مجھے کہیں مل گیا تو میں اسے روکوں گی۔

حواشی
(١) في [ص]: زائدة (عن أبى يزيد).
(٢) في [ك]: (درة)، وفي [ز]: (ذر).
(٣) في [ك]: (أختى).
(٤) في [ص]: (يزيد).
(٥) في [ص]: (فاقراه)، وفي [ك]: (وامره)، وفي [أ، ز]: (فاقراه)، وفي [هـ]: (واقرئيه).
(٦) في [أ، ز، ك]: (ومره)، وفي [ص]: (ومر به)، وفي [هـ]: (ومري به).
(٧) في [أ]: (لبعض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9258
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أم ذرة صدوقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9258، ترقيم محمد عوامة 9103)