حدیث نمبر: 9237
٩٢٣٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد قال: (خرجت) (١) فصمت فقالوا (لي) (٢): أعد (قال) (٣) فقلت: إن أنسًا (أخبرني) (٤) أن أصحاب رسول اللَّه ﷺ كانوا يسافرون فلا يعيب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمید فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر پر تھا، میں نے روزہ رکھا تو لوگوں نے مجھے کہا کہ تمہیں اس روزے کا اعادہ کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ مجھے حضرت انس نے بتایا ہے کہ صحابہ کرام سفر کرتے تھے اور کوئی روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو کچھ نہ کہتا تھا۔ اس کے بعد میں حضرت ابن ابی ملیکہ سے ملا تو انہوں نے مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہی بات بتائی۔

حواشی
(١) في [أ]: (خرجنا).
(٢) في [أ، ز، ك]: زيادة (لى).
(٣) سقط من: [أ، ك، ب].
(٤) في [ب]: (أجرنى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيام / حدیث: 9237
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (١٩٤٧) ومسلم (١١١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9237، ترقيم محمد عوامة 9084)