مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيام
ما يؤمر به الصائم من قلة الكلام وتوقي الكذب باب: روزے دار کے لئے بات چیت کی کمی اور جھوٹ چھوڑنے کا حکم
حدیث نمبر: 9131
٩١٣١ - حدثنا وكيع ومحمد بن بشر عن مسعر عن عمرو بن مرة عن أبي البختري أن امرأة كانت تصوم على عهد رسول اللَّه ﷺ في لسانها (١) (فقال) (٢): ما صامت، فتحفظت فقال رسول اللَّه ﷺ: " (قد) (٣) كادت"، ثم تحفظت فقال: "الآن" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت روزہ رکھا کرتی تھی لیکن وہ اپنی زبان کی حفاظت نہ کرتی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا روزہ نہیں ہوا۔ اس نے زبان کی حفاظت کرنا شروع کی تو آپ نے فرمایا کہ اب عنقریب اس کا روزہ درست ہوجائے گا۔ اس نے مزید حفاظت کی تو آپ نے فرمایا کہ اب اس کا روزہ ہوگیا۔
حواشی
(١) في الشعب زيادة: (شيء)، وفي الدلائل زيادة: (ذرابة).
(٢) في [س، ط، هـ]: (قال).
(٣) في [هـ] زيادة (و).