حدیث نمبر: 8904
٨٩٠٤ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: أتيت وأنا نائم في رمضان فقيل لي: إن الليلة ليلة القدر قال: فقمت وأنا ناعس (فتعلقت) (١) ببعض أطناب فسطاط رسول اللَّه ﷺ (فأتيت رسول اللَّه ﷺ) (٢) وهو يصلي فنظرت في الليلة فإذا هي ليلة ثلاث وعشرين قال: وقال ابن عباس: إن الشيطان يطلع مع الشمس كل ليلة إلا ليلة القدر وذلك أنها تطلع يومئذ بيضاء لا شعاع لها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں سویا ہوا تھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آج شبِ قدر ہے۔ میں نیند کی حالت میں بیدار ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خیمہ کی رسی کو پکڑ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے رات کا اندازہ لگایا تو وہ رمضان کی تیئسویں رات تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شیطان شبِ قدر کے علاوہ ہر رات سورج کے ساتھ برآمد ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے شب قدر کے دن سورج سفید حالت میں بغیر کرنوں کے طلوع ہوتا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ك، هـ]: (فتعلقت).
(٢) سقط من: [أ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8904
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (٢٣٠٢)، والطيالسي (٢٦٦٨)، والطبراني (١١٧٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8904، ترقيم محمد عوامة 8757)