مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في قوله (تعالى): ﴿حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى﴾ باب: فرمانِ باری تعالیٰ {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃ الْوُسْطَی} (نمازوں کی پابندی کرو اور خاص طور پر درمیانی نماز کی) کی تفسیر
حدیث نمبر: 8847
٨٨٤٧ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة قال: ثنا (حيان) (١) الأزدي (قال ⦗٣٨٨⦘ سمعت) (٢) ابن (عمر وسئل) (٣) عن الصلاة الوسطى وقيل له إن أبا هريرة يقول: هي العصر فقال: إن أبا هريرة يكثر، ابن (عمر) (٤) يقول: هي الصبح (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حیان ازدی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے درمیانی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ حضرت ابوہریرہ کے مطابق اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ یہ سن کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوہریرہ تو بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ص، ك]: (حبان)، وانظر: الدر المنثور (١/ ٧١٩)، الجرح والتعديل (٣/ ٢٤٤)، تصحيفات المحدثين (٢/ ٤٦٦).
(٢) تكررت في: [ب].
(٣) في [هـ]: (عمرو سئل).
(٤) في [ب، ز]: (عمير).