مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في قوله (تعالى): ﴿حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى﴾ باب: فرمانِ باری تعالیٰ {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃ الْوُسْطَی} (نمازوں کی پابندی کرو اور خاص طور پر درمیانی نماز کی) کی تفسیر
حدیث نمبر: 8825
٨٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن (شتير) (١) ابن شكل عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يوم الأحزاب شغلونا عن الصلاة الوسطى: صلاة العصر، ملأ اللَّه بيوتهم وقبورهم نارًا"، ثم صلاها بين العشاءين بين المغرب والعشاء (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا کہ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی عصر کی نماز کے وقت میں مصروف رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ نے عصر کی نماز کو مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں ادا فرمایا۔
حواشی
(١) في [أ]: (شبير)، وفي [ب]: (بشير).