مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من رخص أن يقرأ القرآن في ليلة وقراءته في ركعة باب: جن حضرات کے نزدیک اس بات کی اجازت ہے کہ ایک رات میں اور ایک رکعت میں ختم کرلیا جائے
حدیث نمبر: 8818
٨٨١٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن (عمرو) (١) عن محمد بن إبراهيم عن عبد الرحمن بن عثمان قال: قمت خلف المقام أصلي وأنا أريد أن لا يغلبني عليه أحد تلك الليلة، فإذا رجل من خلفي يغمزني فلم ألتفت إليه، ثم غمزني فالتفت فإذا هو عثمان بن عفان، فتنحيت وتقدم (فقرأ) (٢) القرآن كله في ركعة ثم انصرف (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ میں مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا، میں یہ چاہتا تھا کہ اس رات اس جگہ میرے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا۔ اتنے میں ایک آدمی نے مجھے پیچھے سے متوجہ کیا۔ میں متوجہ نہ ہوا اس نے مجھے پھر متوجہ کیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت عثمان بن عفان تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا اور وہ وہاں کھڑے ہوگئے اور انہوں نے ایک رکعت میں پورا قرآن مجید پڑھنے کے بعد نماز مکمل فرمائی۔
حواشی
(١) في [أ]: (عمر)
(٢) في [ص، هـ]: (وقرأ).