مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يصلي على راحلته (حيثما) توجهت به باب: جو حضرات اپنی سواری پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہو
حدیث نمبر: 8746
٨٧٤٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن مجاهد قال: صحبت ابن عمر من المدينة إلى مكة (فكان) (١) يصلي على (دابته) (٢) (حيث) (٣) توجهت به فإذا كانت الفريضة نزل فصلى (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ سے مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کیا وہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی طرف ہوتا۔ البتہ جب انہوں نے فرض نماز پڑھنی ہوتی تو نیچے اتر کر پڑھتے تھے۔
حواشی
(١) في [ك]: (وكان).
(٢) في [ك]: (راحلته).
(٣) في [أ]: (حيثما).