مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره رفع (اليدين) في الدعاء باب: جن حضرات نے دعا میں ہاتھوں کے اٹھانے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 8674
٨٦٧٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: سئل هل كان رسول اللَّه ﷺ يرفع يديه؟ فقال: نعم شكى إليه الناس ذات جمعة (فقالوا) (١) يا رسول اللَّه قحط المطر وأجدبت الأرض وهلك المال قال: فرفع يديه ودعا حتى رأيت (بياض) (٢) أبطيه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھوں کو بلند فرمایا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں، ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگ آپ کے پاس قحط سالی کی شکایت لے کر آئے اور کہا اے اللہ کے رسول ! بارشیں نہیں ہو رہیں، زمین بنجر ہوگئی ہے، مال ہلاک ہوگیا ہے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو بلند فرمایا اور دعا کی۔ اس موقع پر مجھے آپ کی بغلوں کی سفیدی بھی نظر آرہی تھی۔
حواشی
(١) في [أ]: (قالوا)، وفي [هـ]: (قال).
(٢) سقط من: [أ، ب، ز، ك].