مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال لا يصلي في الاستسقاء باب: جوحضرات استسقاء کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 8565
٨٥٦٥ - (حدثنا وكيع) (١) قال: ثنا سفيان عن مطرف عن الشعبي أن عمر بن الخطاب خرج يستسقي فصعد المنبر فقال: ﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (١٠) يُرْسِلِ ⦗٣٢٣⦘ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (١١) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا﴾ [نوح: ١٠ - ١٢]، ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا﴾، ثم نزل فقالوا: يا أمير المؤمنين لو استسقيت فقال: لقد طلبته (بمجاديح) (٢) السماء التي يستنزل بها (القطر) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب بارش کی دعا کے لئے نکلے اور آپ نے منبر پر چڑھ کر یہ آیات پڑھیں : اپنے رب سے استغفار کرو، سورة نوح ١٠ سے ١٢ پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ لوگوں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین اگر آپ بارش کے لئے دعا کرتے تو اچھا ہوتا ! حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے اسے اس جگہ سے طلب کیا جہاں سے بارش برستی ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (حدثنا أبو بكر)، وفي [أ، ك]: (سقط حدثنا).
(٢) في [أ]: (بمجاريح).
(٣) في [هـ]: (المطر).
(٤) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من عمر.