حدیث نمبر: 8557
٨٥٥٧ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه عن نافع عن صفية ابنة أبي عبيد (قالت) (١): زلزلت الأرض على عهد عمر حتى (اصطفقت) (٢) السرر، فوافق ذلك عبد اللَّه بن عمر وهو يصلي فلم يدر (قالت) (٣): فخطب عمر (للناس) (٤) فقال: (أحدثتم) (٥) (لقد) (٦) عُجلتم، (قالت) (٧): ولا (أعلمه) (٨) إلا قال: لئن عادت لأخرجن من بين ظهرانيكم (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صفیہ بنت ابی عبید فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک مرتبہ اتنا زلزلہ آیا کہ چارپائیاں ہلنے لگیں، حضرت عبدا للہ بن عمر اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہیں اس زلزلہ کا بالکل احساس نہیں ہوا۔ اس موقع پر حضرت عمر نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ تم نے دین میں نئی نئی باتیں پیدا کی ہیں اور تم نے بہت جلدی کی ہے۔ حضرت صفیہ فرماتی ہیں کہ میرے علم کے مطابق انہوں نے اس کے بعد صرف اتنا فرمایا کہ اگر دوبارہ زلزلہ آیا تو میں تمہارے درمیان سے نکل جاؤں گا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (قال).
(٢) في [ب]: (لصطفقن).
(٣) في [أ، ب، ك، هـ]: (قال).
(٤) في [ب]: (الناس).
(٥) في [هـ]: (أحدهما)، وفي [أ]: (أحدهم).
(٦) في [أ]: (قد).
(٧) في [أ، ب، ك، هـ]: (قال).
(٨) في [أ]: (تعلم).
(٩) رجاله ثقات، أخرجه البيهقي (٣/ ٣٤٢)، ونعيم بن حماد في الفتن (١٧٣١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8557
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8557، ترقيم محمد عوامة 8421)