٨٥٤٣ - حدثنا معتمر عن إسحاق بن سويد عن العلاء بن زياد في صلاة الكسوف قال: يقوم (فيقرأ) (١) ويركع فإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده نظر إلى القمر فإن (كان) (٢) لم (يتجل) (٣) قرأ ثم (ركع) (٤)، ثم رفع رأسه فإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده نظر إلى القمر فإن كان [لم (يتجل) (٥) قرأ ثم ركع ثم رفع رأسه، فإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده، نظر إلى القمر فإن كان] (٦) انجلى سجد ثم قام (فشفعها) (٧) ⦗٣١٦⦘ بركعة، وإدن لم (يتجل) (٨) لم يسجد أبدًا حتى (يتجلى) (٩) متى ما تجلى، ثم إدن كان كسوف (بعد) (١٠) لم يصل هذه الصلاة.حضرت علاء بن زیاد چاند گرہن کی نماز کے بارے میں فرماتے ہیں کہ امام قیامت میں قراءت کرے گا اور رکوع کرے گا۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے۔ اگر چاند روشن نہ ہوا تو قراءت کرے پھر رکوع کرے پھر سر اٹھائے۔ جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے، اگر روشن نہ ہوا ہو تو قراءت کرے پھر رکوع کرے پھر سر اٹھائے ، جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے۔ اگر وہ روشن ہوگیا ہو تو سجدہ کرے، پھر کھڑا ہوکر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے۔ اگر چاند روشن نہ ہوا ہو تو اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک چاند کا کچھ حصہ روشن نہ ہوجائے۔ پھر اگر اس کے بعد دوبارہ گرہن ہوجائے تو یہ نماز نہ پڑھے۔