٨٥٣٤ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن (حيان) (١) بن عمير عن عبد الرحمن ابن سمرة وكان من أصحاب رسول اللَّه ﷺ قال: كنت أرتمي بأسهم بالمدينة في حياة رسول اللَّه (ﷺ) (٢) إذ (٣) انكسفت الشمس، فنبذتها، فقلت: واللَّه لأنظرن إلى ما حدث لرسول اللَّه ﷺ في كسوف الشمس، قال: فأتيته وهو قائم في الصلاة رافعا يديه قال: فجعل يسبح ويحمد ويكبر ويهلل (و) (٤) يدعو حتى حسر ⦗٣١٣⦘ عنها، قال: فلما حسر عنها، قال: قرأ سورتين وصلى ركعتين (٥).حضرت عبد الرحمن بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا ، اس وقت میں تیر اندازی کررہا تھا، میں نے ان تیروں کو پھینکا اور بھاگا تاکہ دیکھ سکوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گرہن کے موقع پر کیا حکم فرماتے ہیں۔ میں حاضر ہوا تو آپ نماز میں اپنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے تھے۔ آپ نے اس میں اللہ کی تسبیح، تحمید، تکبیر اور تہلیل بیان کی پھر دعا کی۔ یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا۔ جب سورج روشن ہوا تو آپ نے دوسورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھیں۔