حدیث نمبر: 8526
٨٥٢٦ - (حدثنا) (١) ابن نمير قال: أخبرنا عبد الملك عن عطاء عن جابر قال: أنكسفت الشمس على عهد رسول اللَّه ﷺ يوم مات إبراهيم بن النبي ﷺ فقال الناس: إنما انكسفت الشمس لموت إبراهيم، فقام النبي ﷺ فصلى بالناس ست ركعات وأربع سجدات، (بدأ) (٢) فكبر ثم قرأ فأطال القراءة ثم ركع نحوا مما قام ثم رفع رأسه من الركوع فقرأ قراءة دون (القراءة) (٣) (الأولى) (٤)، ثم ركع نحوًا مما قام ثم رفع رأسه من الركوع، (فقرأ قراءة دون الثانية، ثم ركع نحوًا مما قام، ثم رفع رأسه من الركوع) (٥)، ثم انحدر بالسجود فسجد سجدتين، ثم قام فركع أيضًا ثلاث ركعات ليس منها ركعة إلا التي قبلها أطول من التي بعدها وركوعه نحوا من سجوده، ثم تأخر وتأخرت الصفوف خلفه حتى انتهى إلى النساء، ثم تقدم وتقدم ⦗٣١١⦘ الناس معه حتى قام في مقامه، فانصرف حين انصرف وقد أضاءت الشمس فقال: "يا أيها الناس إنما الشمس والقمر آيتان من آيات اللَّه لا (ينكسفان) (٦) لموت بشر، فإذا رأيتم شيئا من ذلك فصلوا حتى تنجلي" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جب آپ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج کو گرہن لگ گیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ آپ نے سب سے پہلے تکبیر کہی پھر قراءت کی اور لمبی قرائت کی، پھر قیام کے برابررکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا ، پھر پہلی قراءت سے کم قراءت کی، پھر قیام کے برابر رکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور دوسری قراءت سے کم قراءت کی، پھر اس قیام کے برابر رکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھا کر سجدوں کے لئے جھک گئے اور دوسجدے کئے، پھر کھڑے ہوکر تین رکوع فرمائے، ہر رکوع سے پہلے رکوع اس سے زیادہ لمبا ہوتا تھا۔ اور آپ کے رکوع آپ کے سجدوں کے برابر ہوتے تھے۔ پھر آپ پیچھے آئے اور آپ کے پیچھے صفوں میں کھڑے لوگ بھی پیچھے آئے، یہاں تک کہ خواتین تک پہنچ گئیں۔ پھر آپ آگے ہوئے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی آگے ہوئے یہاں تک کہ آپ اپنی جگہ آکھڑے ہوئے۔ پھر جب سورج روشن ہوگیا تو آپ نے نماز کو مکمل فرمالیا اور پھر ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب تم ان کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو ان کے روشن ہونے تک نماز پڑھو۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [ك].
(٣) سقط من: [ص، هـ].
(٤) في [هـ]: (الثانية).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٦) في [ز]: (ينكشفان)، في [أ]: (تنكسفان).
(٧) شاذ، صواب الرواية أربع ركوعات، والحديث أخرجه مسلم (٩٠٤)، وأحمد (١٤٤١٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8526
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8526، ترقيم محمد عوامة 8390)