حدیث نمبر: 8493
٨٤٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي بكر بن أبي الجهم ابن (صخير) (١) العدوي عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن ابن عباس قال: صلى رسول اللَّه ومَل صلاة الخوف بذي قرد -أرض من أرض بني سليم- فصف الناس (خلفه) (٢) صفين، صف خلفه (٣) مواز العدو فصلى بالصف الذي يليه ركعة ثم نكص هؤلاء إلى مصاف هؤلاء وهؤلاء إلى مصاف هؤلاء فصلى بهم ركعة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سلیم کی زمین ذی قرد میں نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے آپ کے پیچھے دو صفیں باندھیں ، ایک صف آپ کے پیچھے تھی اور دوسری دشمن کے سامنے، آپ نے اپنے پیچھے موجود صف کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ دوسروں کی جگہ چلے گئے اور دوسرے ان کی جگہ آگئے۔ پھر آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی۔
حواشی
(١) في [ص]: (فجير).
(٢) زيادة من: [ص، ز، ك].
(٣) كذا في النسخ، ولعله سقط: (وصف).