مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الصلاة عند (المسايفة) باب: جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہئے؟
حدیث نمبر: 8492
٨٤٩٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن رجاء بن حيوة (الكندي) (١) قال: كان ثابت بن السمط أو السمط بن ثابت (٢) في مسير في خوف، فحضرت الصلاة ⦗٢٩٧⦘ فصلوا ركبانا فنزل الأشتر فقال: ما له؟ قالوا: نزل فصلى، قال: ما له خالف، خولف (به) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجاء بن حیوہ کہتے ہیں کہ ثابت بن سمط یا سمط بن ثابت ایک جنگ میں تھے کہ نما زکا وقت ہوگیا، لوگوں نے سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھ لی۔ حضرت اشتر اترے اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے کیا کیا ؟ آپ کو بتایا گیا کہ انہوں نے اتر کر نماز پڑھی ہے، اشتر نے کہا کہ انہوں نے مخالفت کیوں کی جس پر ان کی مخالفت کی گئی ؟
حواشی
(١) في [ب]: بياض.
(٢) في فتح الباري ٢/ ٤٢٧، وعمدة القاري ٦/ ٢٦٢، والثقات ٤/ ٩١، أنه ثابت بن السمط أخو شرحبيل بن السمط، وقد أخرج الخبر ابن عساكر ٥٦/ ٢٨٠، وابن المبارك في الجهاد (٢٤٦).
(٣) سقط من: [أ].